تقسیم ہند سے پہلے متحدہ ہندوستان میں مختلف اقوام کے لوگ ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔ ان کے درمیان تعلق اتنا مضبوط تھا کہ باہر سے آنے والے لوگ اسے ایک ہی قوم اور مذہب کے پیروکار سمجھ بیٹھتے تھے۔ آج آپ کو خیبر پختونخواہ کے ایک ایسے علاقے کے بارے میں معلومات دیتا ہوں جہاں سکھ اور مسلمان ابھی بھی ایک ساتھ رہتے ہیں اور اُن کا آپس میں محبت اور اعتماد دیکھ کر یقینا ً آپ کو خوشی اور حیرانی ہوگی۔

خیبر پختونخواہ کے شمال میں واقع اس ضلع کا نام بونیر ہے۔ لفظ بونیر کے معنی جنگل کے ہیں۔ وسیع پیمانے پر جنگلات کی وجہ سے یہاں کی آب و ہوا اور خوبصورتی قابل دید ہے۔ انیسویں صدی میں لڑی گئی امبالہ جنگ (جو رستم اور بونیر کے بارڈر امبالہ کے مقام پر لڑی گئی) پختونوں کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔ جس میں پشتونوں نے مل کر انگریزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہاں کے لوگوں کی غیرت اور وطن سے محبت کا اندازہ 2009ء دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ کر لڑنے اور ضلع میں داخلے کے وقت سخت مزاحمت سے لگایا جاسکتا ہے۔ امن اور محبت کا ذکر کیا جائے تو یہاں شرح جرائم باقی اضلاع کی نسبت انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیت کی بڑی تعداد یہاں خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ جس میں اکثریت سکھ برادری کا ہے۔

آزادی کے وقت درجنوں سکھ اور ہندو خاندان بونیر سے ہجرت کرکے ہندوستان چلے گئے۔ لیکن ان میں سے کچھ اپنے آبائی علاقے کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے، اور وہ یہیں رہ گئے۔ یہ اس علاقے کا امن ہی تھا کہ بعد میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے سکھ بونیر آکر بسنے لگے جس کی وجہ سے تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔

سکھ کمیونٹی کے زیادہ تر خاندان کوہ ایلم کے دامن میں واقع پیربابا کے گاؤں میں آباد ہیں۔ 2017ء میں کی گئی ایک سروے کے مطابق لگ بگ تین سو سکھ خاندان بونیر میں رہتے ہیں۔جس کی تعداد میں اب اضافہ ہوچکا ہے۔ پیر بابا کے غورغوشتو اور دیوانہ بابا میں بھی درجنوں سکھ خاندان رہائش پذیر ہے۔

مسلمان اور سکھ برادری کے درمیان مضبوط تعلق ہے۔جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی لوگ اپنے امانت اور پیسے بینکوں کے بجائے سکھ بھائیوں کے پاس رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں پیربابا سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی دکاندار کا کہنا ہے کہ جس وقت بینکنگ سسٹم موجود نہیں تھا اس وقت سے لوگ اپنی امانتیں سکھوں کے پاس رکھا کرتے تھے، جن میں بونیر کے دور دراز علاقوں کے لوگ بھی ہوتے تھے۔

عمران کا کہنا ہے کہ مذہبی رسومات ، خوشی اور غم کے لمحات میں ہم ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ جب بھی ہم میں سے کسی کو مالی مشکل پیش آتی ہے تو دونوں برادریوں کے لوگ کھل کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما ءاور سوشل ایکٹیوسٹ مرحوم سردار سورن سنگھ کا تعلق بھی پیر بابا سے تھا۔ جنہوں نے سکھ اور مسلمان برادری کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مرحوم سورن سنگھ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بائیس سال تک جماعت اسلامی سے منسلک رہے۔ تحریک انصاف میں شمولیت کے وقت ان کا موقف تھا کہ جماعت اسلامی بہترین جماعت ہے، لیکن تحریک انصاف میں شمولیت سے برادری کی طرف سے حمایت زیادہ ہوگئی۔

سکھ بزرگوں کے مطابق انھیں مذہبی عقائد اور رسومات کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ بابری مسجد پر حملے اور 2009ء میں دہشتگردی کی وجہ سے انھیں وقتی طور پر مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے ہم ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے لیکن وہ سکھ اور مسلمان دونوں کے لئے مشکل وقت تھا۔

پیربابا میں سکھ کمیونٹی کے لوگ مختلف قسم کے کاروبار کرتے ہیں۔ جس میں کپڑے اور بیکری کا کام سرفہرست ہے۔ یہاں کے سکھ اعلیٰ کوالٹی کے سویٹس تیار کرتے ہیں۔ لیکن مشہور سوغات “میسو” ہے۔ میسو وہ منفرد سوغات ہے جو آپ کو صرف بونیر میں ہی ملے گی۔ پختونخواہ کے مختلف علاقوں کے لوگ جب پیربابا آتے ہیں تو میسو کی ڈیمانڈ ضرور کرتے ہیں۔ لوگ اسے بطور تحائیف بھی دیتے ہیں۔ اس کا ذائقہ بہترین ہوتا ہےاور ایک دفعہ کھانے کہ بعد دوبارہ اس کی مانگ ضرور کی جاتی ہے۔

بونیر کے سکھ اور مسلمان برادری کا یہ اعتماد اور اتحاد باقی لوگوں کے لئے ایک مثبت پیغام ہے۔ مذاہب اور رسومات میں اختلاف سے کوئی فرق نہیں۔ اگر دلوں میں انسانیت کا جذبہ پیدا کیا جائے تو ہم امن کا ما حول پیدا کرسکتے ہیں۔ ہر مذہب ہمیں دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے اچھے برتاؤ کا درس دیتا ہےاور یہی جذبہ ہمارے پیارے ملک کو امن کا گہوارا بنا سکتا ہے۔

About the author

Avatar

Abdullah Yousafzai

Leave a Comment