آٹا بحران کے بعد ملک میں تیل کی قلت پیدا ہوئی تو حکومت کی طرف سے بالکل اسی طرح کی سست روئی اور لا روائی دیکھنے کو ملی جو آٹے کی بحران پیدا ہونے پر دیکھنے کو ملی تھی۔ چونکہ ذیادہ تر کارخانوں اور آمدورفت کا انحصار تیل پر ہوتاہے، جس کی وجہ سے حکومت اور عوام دونوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔

ملک کے ذیادہ تر پٹرول پمپس بند پڑے ہیں، جو کھلے ہیں وہاں لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں اور اوپر سے قیمت بھی دوگنا وصول کرتے ہیں۔ بازاروں میں غیر قانونی فروخت جاری ہے، جو 200 سے 300    تک وصول کرتے ہیں۔ یوں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی عوام کے لئے درد سر بن گیا ہے۔

تیل کی قلت اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ پاکستان اسٹیٹ آئل نے کئی بار حکومت کو متوقع بحران سے آگاہ کیا تھا۔ لیکن حکومت کوئی بھی احتیاطی قدم اٹھانے سے گریز کرتی رہی۔

مارچ کے آخر میں حکومت نے تیل کی درآمدات پر پابندی لگائی اور آئل اینڈ مارکیٹنگ کمپنیز کو کارگوز آرڈرز منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ 6  اپریل کو پی ایس او نے اوگرا کو خط لکھا جس میں یہ بات واضح کی گئی کہ کمپنیز کے پاس تیل کے مطلوبہ ذخائر موجود نہیں ہے۔ اور پھر دو مئی کو متوقع بحران سے حکومت کو اگاہ کیا۔ لیکن حکومت کا موقف تھا کہ ملک میں مطلوبہ ذخائر موجود ہیں۔

آئل قیمتوں میں کمی، متوقع بحران اور لاک ڈاون میں نرمی کے بعد تیل کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا تو تیل کی درآمدات پر حکومتی فیصلے کے نقصانات شدید بحران کی شکل میں آنا شروع ہوگئے۔ کافی دنوں تک تو حکومت خاموش رہی، لیکن جب عدالت نے وزارت پیٹرولیم اور اوگرا کو جلد از جلد بحران سے نمٹنے کا حکم دیا تو حکومت حرکت میں آگئی۔ حکومت اور او ایم سیز کا ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

 وزارت پیٹرولیم نے موقف اختیار کیا کہ آئل مافیا نے تیل کی مصنوعی قلت پیدا کی ہے۔ اور ساتھ ہی

 چونکہ ذیادہ تر کارخانوں اور آمدورفت کا انحصار تیل پر ہوتاہے، جس کی وجہ سے حکومت اور عوام دونوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔

ملک کے ذیادہ تر پٹرول پمپس بند پڑے ہیں، جو کھلے ہیں وہاں لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں اور اوپر سے قیمت بھی دوگنا وصول کرتے ہیں۔ بازاروں میں غیر قانونی فروخت جاری ہے، جو 200 سے 300    تک وصول کرتے ہیں۔ یوں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی عوام کے لئے درد سر بن گیا ہے۔

تیل کی قلت اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ پاکستان اسٹیٹ آئل نے کئی بار حکومت کو متوقع بحران سے آگاہ کیا تھا۔ لیکن حکومت کوئی بھی احتیاطی قدم اٹھانے سے گریز کرتی رہی۔

مارچ کے آخر میں حکومت نے تیل کی درآمدات پر پابندی لگائی اور آئل اینڈ مارکیٹنگ کمپنیز کو کارگوز آرڈرز منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ 6  اپریل کو پی ایس او نے اوگرا کو خط لکھا جس میں یہ بات واضح کی گئی کہ کمپنیز کے پاس تیل کے مطلوبہ ذخائر موجود نہیں ہے۔ اور پھر دو مئی کو متوقع بحران سے حکومت کو اگاہ کیا۔ لیکن حکومت کا موقف تھا کہ ملک میں مطلوبہ ذخائر موجود ہیں۔

آئل قیمتوں میں کمی، متوقع بحران اور لاک ڈاون میں نرمی کے بعد تیل کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا تو تیل کی درآمدات پر حکومتی فیصلے کے نقصانات شدید بحران کی شکل میں آنا شروع ہوگئے۔ کافی دنوں تک تو حکومت خاموش رہی، لیکن جب عدالت نے وزارت پیٹرولیم اور اوگرا کو جلد از جلد بحران سے نمٹنے کا حکم دیا تو حکومت حرکت میں آگئی۔ حکومت اور او ایم سیز کا ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

چوبیس گنٹھوں کے اندر اندر بحران ختم کرنے کا حکم دیا۔

دوسرے ہی دن اوگرا نے مصنوعی قلت پیدا کرنے پر چھ کمپنیوں کو جرمانہ کیا اور تین کمپنیوں کو شوکازنوٹس جاری کرکے چوبیس گنٹھوں کے اندر جواب طلب کرلیا۔ اوگرا نے خبردار کیا کہ اگر قلت ختم نہ ہوئی تو مذید جرمانے لگ سکتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے ابھی تک جو اقدامات کئے ہیں، کیا اس سے مسئلہ حل ہوسکے گا ؟ کیا ملک میں تیل کی مطلوبہ مقدار موجود ہے؟ کمپنیوں کے پاس تیل کے ذخائر موجود ہے لیکن کیا قلت ختم کرنے کے لئے کافی ہے؟ ہر گرتے دن کے ساتھ ان سوالات کے جوابات واضح ہوتے جارہے ہیں، آئندہ چند روز میں یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ ذیادہ قصوروار کون ہے؟ کیونکہ قصوروار تو حکومت اور او ایم سیز دونوں ہیں۔ حکومت نے تیل کی درآمدات پر پابندی لگا کر اپنا حصہ ڈالا۔ اور او ایم سیز نے جو تیل مہنگی قیمت پر خرید کر ذخیرہ کیا ہوا ہے وہ سستی قیمت پر بیچنے کو تیار نہیں۔ لیکن  ایسا کرنا قانون کی بھی خلاف ورزی ہے اور اخلاقی طور پر بھی درست نہیں ہے۔ فائدہ اور نقصان مارکیٹ کا حصہ ہے۔

یقیناً آئل کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر صورتحال کو قابو کیا جاسکتا ہے۔عوام کو تھوڑی بہت ریلیف مل جائے گی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ قلت کی ڈر سے ڈیمانڈ میں جو اضافہ ہوچکا تھا وہ کم ہوجائےگا کیونکہ لوگ ضرورت سے ذیادہ ذخیرہ رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن ایسا کرنے سے ہم مکمل طور پر قلت ختم نہیں کرسکتے۔

حکومت کو عالمی مارکیٹ میں موجودہ قیمت پر تیل خرید کر درآمد کرنا پڑے گا۔ جس سے حکومت کو نقصان ضرور ہوگا لیکن قلت ختم کرنے میں آسانی ہوگی۔ لوکل پیٹرول پمپس اور بازاروں میں جو عام دوکاندار غیر قانونی طریقے سے مہنگی قیمتوں پر پیٹرول بیچ رہے ہیں، ان کے خلاف بھی فوری کاروائی کی ضرورت ہے۔

 صرف حکومت پر تنقید کرکے عوام اخلاقی فرائض سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے، ضرورت سے ذیادہ تیل ذخیرہ کرنے سے مذید مشکلات پیدا ہوں گے۔ ذمےدار شہریوں کا ثبوت دے کر ہمیں حکومت کا ساتھ دینا پڑے گا۔ بروقت اقدامات نہ کرنے کی صورت میں مزید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

About the author

Avatar

Abdullah Yousafzai

Leave a Comment