وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنگ کے طریقے بھی بدلتے رہتے ہیں- ماہرین نے جنگوں کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے جسے وار فئیر ماڈل کہا جاتا ہے- وار فئیر ماڈل کا آغاز 1648ء میں اس وقت سے ہوا جب کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے درمیان لڑی جانے والی تیس سالہ جنگ کے بعد “امن ویسفالیہ” کے نام سے امن معاہدہ ہوا-
شروع میں جنگ میں تلواروں کا استعمال ہوتا تھا، گھوڑے اور اونٹ سواری کے لئے استعمال ہوتے تھے- جنگ کے لئے کھلے میدان کا انتخاب کیا جاتاتھا، اور بالکل آمنے سامنے آکر لڑی جاتی تھی-جیت کا دارومدار افرادی قوت پر ہوتا تھا- اس دور کو ماہرین فرسٹ جنریشن وار کے نام سے یاد کرتے ہیں- پھر ٹیکنالوجی کا زمانہ آگیا، تلواروں کی جگہ بندوق اور ٹینک نے لے لی- اس دور کو سیکنڈ جنریشن وار کہتے ہیں، جس کی مثال پہلی جنگ عظیم ہے- دوسری جنگ عظیم سے لے کر 70s تک کے دور کو تھرڈ جنریشن وار کا زمانہ کہا جاتا ہے- اس دور میں پہلی بار جنگی جہازوں کو متعارف کرایا گیا- یہ دور ختم ہوتے ہی فورتھ جنریشن وار شروع ہوئی جو اکیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہی- اس قسم کی جنگوں میں دوسروں کو استعمال کیا جاتاہے، یعنی براہ راست جنگ سے اجتناب کیا جاتا ہے- اس دور میں انسانی قوت کی اہمیت ماند پڑگئی- اس کے بعد نفسیاتی جنگ کا دور شروع ہوگیا، جو جنگوں کی تاریخ میں خطرناک ترین دور سمجھا جاتا ہے- اس جنگ کو ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار کہا جاتاہے-
ففتھ جنریشن وار فئیر یا پانچویں نسل کی جنگی حکمت عملی کو سمجھنے میں زیادہ تر لوگ تذبذب کا شکار ہیں- اسکالرز کسی خاص تعریف پر متفق نہیں ہے بلکہ کچھ لوگ اس کی موجودگی پر بھی اعتراض کرتے ہوئے دعوی کرتے ہیں کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے کچھ ممالک اس اصطلاح کا استمعال کرتے ہیں- بہرحال اس جدید حکمت عملی کے اوصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی پیدائش یا موجودگی کا انکار نہیں کیا جاسکتا- ماہرین جنگ کے خیالات اور نقطۂ نظر کو دیکھتے ہوئے ہم سادہ الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ففتھ جنریشن وار وہ جنگ ہے جس میں ایک ملک خود کو معاشرتی، معاشی، سیاسی اور دفاعی طور پر مظبوط کرنے اور دشمن ملک کو فیزیکل ہتھیاروں کا استمعال کئے بغیرکمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے- اس جنگ کی خصوصیت یہ ہے کہ ٹارگٹ کو حملے کا پتہ نہیں چلتا یہاں تک کہ انہیں شکست ہوجاتی ہے-

ففتھ جنریشن وار فئیر کی اصطلاح پہلی دفعہ 90s میں امریکہ نے استمعال کی- لیکن یہ شروع کب سے ہوا، یہ واضح نہیں ہے- البتہ بیسویں صدی کے نصف سے اس کے اثرات شروع ہوگئے تھے- سقوط ڈھاکہ سے لے کر افغان جنگ تک کی تاریخی اوراق کو پلٹنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر محاذ پر پانچویں نسل کی جنگی حکمت عملی کا استمعال کیا گیا-
ففتھ جنریشن وار تین طریقوں سے لڑی جاتی ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ ایک ملک اپنے جاسوس دشمن ملک بھیج دیتے ہیں، جن کے ذریعے وہاں انتقامی کارواياں کی جاتی ہے۔دوسرا طریقہ دشمن ملک کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے۔ جبکہ آخری اور خطرناک طریقہ دشمن ملک کے شہریوں کو بغاوت کے لیے اکسانا ہے۔
اول الذکر طریقہ پہلے بھی جنگوں میں استمعال ہوتا تھا لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے جاسوس صرف خبر رسائی کا کام کرتے تھے- جبکہ اب بات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی سازشوں اور تخریب کاریوں تک پہنچی ہے- بھارتی جاسوس کھلبوشن کی مثال ہمارے سامنے ہے، ان جیسے ہزاروں نقاب پوش چہرے دنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں-
ثانی الذکر طریقہ یعنی معاشی طور پر کسی کو کمزور کرنا خطرناک ہتھیار تصور کیا جاتا ہے- دشمن ملک کو قرضے دے کر کنٹرول کیا جاتا ہے- اس کے علاوہ ملک کے اندر خفیہ منصوبہ بندی کے تحت ایسے حالات پیدا کرنا جو معاشی بدحالی کا باعث بنے- حال ہی میں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ ففتھ جنریشن وار کی ایک کھڑی ہے، جس کا ذکر وزیراعظم عمران خان کرچکے ہیں- وزیر اعظم نے اسمبلی میں بھارت کی اس نا پاک سازش کا تفصیلاً ذکر کیا۔
تیسرا طریقہ جو سب سے خطرناک ہے یعنی کسی ملک کے لوگوں کو ریاست اور اداروں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنا ہے- پاکستان میں درجنوں تنظیمیں حکومت اور اداروں کے خلاف کام کرہی ہے- کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء کے دوران اسٹیڈیم کے اوپر ایک ہیلی کاپٹر پرواز کرہا تھا – جس کے پیچھے ایک بینر آویزاں تھا، جس پر صاف لکھا ہوا تھا ” فری بلوچستان”– عام آدمی کی سمجھ میں آنے کے لئے یہ ففتھ جنریشن وار کی واضح مثال ہے-
ففتھ جنریشن وار میں کمزور ممالک کو ٹارگٹ کیا جاتاہے- سب سے پہلے مطلوبہ ملک کی کمزوریاں تلاش کی جاتی ہے- جیسے فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی، کرپشن، حکومت کی نا اہلی، انصاف کی عدم دستیابی اور شہریوں پر ریاست کی طرف سے ظلم وغیرہ- اگر کسی ملک کے اندر اس طرح کی کمزوریاں موجود ہو تو ففتھ جنریشن وار کے لئے ماحول موذوں ہوتا ہے- وہاں پر آسانی سے جنگ جیتی جاسکتی ہے-
ہائبرڈ وار کے لئے میڈیم کا کردار الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا ادا کرتے ہیں- سوشل میڈیا کو اس جنگ کا بہترین میدان تصور کیا جاتا ہے- کیونکہ دور جدید میں ہر کسی کو سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے- دنیا گلوبل ولیج  کی شکل اختیار کرچکا ہے اور میڈیا کو اس ویلج میں بیٹھک کی حیثیت حاصل ہے- روز ہزاروں غلط اور ملک دشمن خبریں پھیلائی جاتی ہے اور ہم آنکھیں بند کرکے اسے قبول کرلیتے ہیں- کیونکہ ہم ابھی تک ” میڈیا ڈائریکٹ ایفکٹ دور” میں جی رہے ہیں- باشعور لوگوں کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ پہلے تصدیق کرتے ہیں بعد میں کسی بھی موضوع پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔
پاکستان اس وقت اپنے کچھ پڑوسیوں اور بین الاقوامی قوتوں کے نشانے پہ ہے جو ففتھ جنریشن وار فئیر کے مختلف طریقوں کو اپنا کے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اس خطرناک جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے سب سے پہلے میڈیا پر ملک دشمن باتوں کو رد کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنا پڑے گا- اس کے لئے حکومت، اداروں اور شہریوں کو مل کر کام کرنا ہوگا- اگر حکومت ناانصافی، اور کرپشن جیسے عناصر پر توجہ نہیں دے سکیں تو مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے- اس کے علاوہ شہریوں کو فرقوں میں بٹنے کے بجائے ایک ہی قوم بن کر رہنا اوردکھانا پڑے گا ورنہ دشمن کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گے۔

About the author

Avatar

Abdullah Yousafzai

Leave a Comment