یکساں نصاب تعلیم کیا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آنے سے پہلے یکساں تعلیمی نظام رائج کرنے کا دعوی کررہی تھی- اب ڈھائی سال گزرنے کے بعد حکومت  نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے تمام صوبوں میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے جارہی ہے- خبر تو شاید ہر کسی نے سنی ہوگی لیکن ذیادہ تر لوگ اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کہ اصل میں یہ پالیسی  کیا ہے- اس الجھن کو ختم کرنے کے لئیے ہم نے قلم کو زحمت دی ۔

یکساں نصاب تعلیم کامقصد تمام بچوں کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کا منصفانہ اور مساوی موقع  فراہم کرنا، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا فروغ ، جدید دنیا سے مقابلہ کرنے والے کے لیئے طلباء کو تیار کرنا، مدراس کے طلباء کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنا اور ایک نصاب کا اطلاق کرنا ہے۔

اس پالیسی کے تحت پینتیس ہزار سے ذائد مدارس حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوں گے، حکومت ان مدارس کے ساتھ مل کر دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو وہی تعلیم بھی دلوائے گی جو معیاری اسکولوں میں بچوں کو دی جاتی ہے- ان اساتذہ کی تنخواہیں بھی حکومت کے ذمہ ہوںگی- جو مدارس حکومت کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں انہیں بند کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے- اسکے علاوہ سلیبس میں قرآن بمع ترجمہ، سیرت النبی ،آئین پاکستان،اقبال اور محمد علی جناح کے افکار شامل کئے گئے ہیں- سلیبس کو چالیس سے پچاس فیصد تک کم کردیا جائے گا۔

 

حکومتی ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں اس پالیسی کا اطلاق پرائمری سطح پر ہوگا- پالیسی پر باقاعدہ عمل درآمد نئی تعلیمی سال یعنی مارچ یا اپریل میں ہوگا-دوسرے مرحلے میں مڈل سطح پر 2022ء سے اطلاق ہوگا جبکہ تیسرے مرحلے میں نویں سے بارہویں تک کی جماعتیں شامل کی جائیں گی اور اس مرحلے کا اطلاق 2023ء سے ہوگا- بہر حال یہ تو ایک آدھ مہینے میں واضح ہوجائےگا کہ پالیسی پر عمل درآمد ممکن ہوسکے گا یا نہیں کیونکہ اعلانات سے لوگوں کا اعتبار اٹھ چکا ہے- بالکل اسی طرح کا اعلان 2014ء میں پختون خواہ کی حکومت نے کیا تھا- اس وقت کے وزیر تعلیم عاطف خان نے دعوی کیا تھا کہ صوبے میں یکساں نصاب تعلیم کا نفاذ ہوچکا ہے لیکن بعد میں پتہ چلا نفاذ صرف پریس کانفرنس میں ہوچکا ہے-

یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے جو بڑی غلط فہمی جنم لے چکی ہے وہ پالیسی کا بنیادی مقصد ہے- زیادہ تر لوگ یکساں نصاب تعلیم کو یکساں کتاب تعلیم سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں- یکساں نصاب تعلیم کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ کتاب ایک جیسی ہوگی- کتاب اورزبان مختلف بھی ہوسکتے ہیں- لیکن اصل مقصد ہے کہ مطلوبہ کلاس سے نکلنے کے بعد تمام بچوں میں ایک جیسی اہلیت موجود ہو- مثال کے طور پر کوئی ادارہ اپنے نرسری کے بچوں کو الف سے اخبار سکھائے یا  آنار کوئی فرق نہیں پڑھتا، بس اسے اردو حروف تہجی آنے چاہئیں۔

اس پالیسی کو اگر ایک طرف سراہا جارہا ہے تو دوسری طرف اس پر تنقید بھی ہورہی ہے- کالم نگار اور ماہر تعلیم ڈاکٹر پرویز ہودبھائے اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ یہ پالیسی بچوں کی بربادی ہے- ہودبھائے صاحب مزید کہتے ہیں کہ جو اسکولز پچاس ہزار روپے فیس لے رہے ہیں اس کا مقابلہ کوئی ایسا اسکول کیسے کرے گا جہاں پانچ سو روپے فیس وصول کی جاتی ہے- آپ نے حکومت کے اس قدم کو منافقت قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ دیہی علاقوں کے بچے یکدم اس لیول پر نہیں جاسکتے جہاں مہنگے اسکولوں کے بچے کھڑے ہیں-  ایک اور نقاد معروف تجزیہ نگار حسن نثار کہتے ہیں کہ بچوں کو دینی تعلیم دینے کی ذمہ داری حکومت نہ لے بلکہ یہ ہم پر چھوڑ دیں، علم میں کوئی دینی اور لادینی نہیں ہے بلکہ یہ سب دین سمجھ کر حاصل کرنا چاہئے-

اس تمام تر صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اگر تعلیمی میدان میں واقعی ترقی کرنا چاہتی ہے تو بجٹ میں اضافہ کیوں نہیں کیا؟ کیا تمام اسکولوں کو تربیت یافتہ اساتذہ میسر ہوسکیں گے؟ کیا مہنگے اسکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں پچاس ہزار اور دیہی یا متوسط اسکولوں میں پندرہ ہزار پھر بھی ملیں گی؟ اگر ہاں تو پھر یکساں تعلیم کیسے دیا جائے گا؟ کیا مہنگے اور سستے اسکولوں میں فرق مٹ سکے گا؟  کیا دیہی علاقوں میں وہ تمام سہولیات میسر ہوسکیں گے جو شہری علاقوں میں ہوں گے؟  کیا دیہات کے سرکاری اسکول کو کمپیوٹر اور معیاری لیبارٹری فراہم ہوسکے گی؟ یہ تمام وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کا ہر پاکستانی منتظر ہے- بہر حال دو تین سالوں میں یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ پالیسی کامیاب ہوتی ہے یا نہیں- اگر کامیاب ہوتی ہے اور مثبت نتیجہ نکلتا ہے تو یقینا یہ حکومت کا شہریوں پر احسان ہوگا۔

About the author

Avatar

Abdullah Yousafzai

Leave a Comment