دنیا بھر میں کورونا وبا کی تیسری لہر سے نمٹنے کے لیے مختلف تدابیر پرعمل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس لہر سے بچنے کے لیے حکومت نے تعلیمی اداروں کو بند کردیا ۔مسجد میں وضو پر پابندی سمیت باجماعت نماز ادا کرنے کے دوران آپس میں فاصلہ رکھنے کے لیے حکومت نے ایس او پیز جاری کردیں ۔

بین الصوبائی اور بین الضلاع ٹرانسپورٹ پر ہفتے اور اتوار کے دن مکمل طور پر پابندی لگائی گئی ۔شادی حال کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ مخصوص اوقات میں پروگرام کے انعقات کے لیے ایس او پیز جاری کر دی گئیں ۔لاک ڈاون کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہے اس حوالے سے مارکیٹوں کے لیے ایس او پیز اور کئی علاقوں میں ہفتے اور اتوار کو مارکیٹیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔سرکاری دفاتر میں سٹاف کی حاضری میں کمی کردی گئی ۔

حکومت کے جانب سے کورونا سے بچنے کے لیے  اٹھائے گئے اقدامات  کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو مختلف سزائی بھی دی جا رہی ہیں ۔کورونا کی اس شدید لہر کے باوجود پی ٹی ایم نے وانا میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس جلسے کے لیے کئی ہفتوں سے کمپین بھی چلائی گئی لیکن ضلعی انتظامیہ نے ایس او پیز کی پامالی کی وجہ سے نہ تو کسی کو کوئی سزا دی اور نہ جلسہ روکنے کی کوشش کی اور آخر کار گزشتہ دنوں پی ٹی ایم نے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ایک جلسہ کیا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے نہ صرف شرکت کی بالکہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔

پختونوں کو ذندگی دینے کا نعرہ لگانے والوں نے پختونوں کو کتنی ذندگیاں دی ہیں اور کتنی ذندگیاں چھینی ہیں یہ تو سب کو پتا ہے لیکن ریاست کے کردار پر اس جلسے نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے ۔ضلع انتظامیہ کی خاموشی اور اس جلسے کے حوالے سے تماشائی کے کردار نے ریاست کی ذمہ داریوں پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ۔اگر کوئی پرائیویٹ سکول کا پرنسپل بچوں کا مستقبل سنوارنے کی خاطر سکول کی بندش کے اعلان پر عمل کرنے کے بجائے سکول کھلا رکھتا ہے تو اسکو جرمانے کرنے کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔اگر کوئی ریڑھی والا اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسکو بھی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اگر کوئی ڈرائیور ہفتے یا اتوار کے دن اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے گاڑی کو سڑک پر نکالتا ہے تو اسکو ٹریفک پولیس ناقابل یقین چالان کے ساتھ ساتھ انکو حوالات کی سیر کرواتی ہے لیکن پی ٹی ایم نے سینکڑوں افراد کا مجمع جمع کرکے ضلعی انتظامیہ کے ناک تلے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑایں مگر نہ تو کسی کو جرمانا کیا گیا اور کسی کو ایف آئی آر کا سامنا کرنا پڑا۔

کورونا ایس اوپیزکی خلاف ورزی کرنے والی پی ٹی ایم قیادت کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ خاموشی اختیار کرنے پر اس جرم میں برابر کی شریک ہے اسی لیے پی ٹی ایم قیادت کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ اگر کسی ریڑھی والے کورونا ایس او پیزکی خلاف ورزی  کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے تو اسکو یہ شکوہ نہ ہو کہ کورونا کی آڑ میں مجھے حلال رزق کمانے سے روکا جا رہا ہے ۔

About the author

Avatar

Hayat Ullah

Leave a Comment