تحریر حیات اللہ محسود

جرگہ قبائلی روایات کا حصہ ہے جرگے  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ انصاف کی فراہمی کا تیز ترین ذریعہ ہے کئی ایسے مسائل جنکوں حل کرنے پر عدالتوں میں سالوں سال لگ جاتے ہے وہی مسائل جرگے کے زریعے یا تو چند گھنٹوں میں حل ہوجاتے ہے یا پھر چند دنوں میں حل ہوجاتے ہیں ۔

جرگے کے زریعے فریقین کے درمیان فیصلے کرنے والے افراد کو مقامی زبان میں مرکزن کہتے ہیں جبکہ دوسرے الفاظ میں انکو ثالثین کہتے ہیں ۔قبائلی روایات میں ثالثین کا کردار ان افراد کو دیا جاتا تھا جن کی معاشرے میں دیانت داری ایمانتداری اور صاف گوئی کے حوالے سے ایک پہچان ہوتی تھی ۔قبائلی اضلاع میں طالبانائزیشن کے وجود میں آنے کے بعد دیگر رسم ورواج کی طرح جرگہ بھی مثاثر ہوا ۔ جرگے میں جو رہے سہے مثبت اثرات باقی تھے اسکا جنازہ عسکری آپریشن کے بعد یہاں کے چند نام نہاد مقامی سرکاری ملکان نے نکال دیا۔آہستہ آہستہ قبائلی رسم رواج کے اس اہم پہلو کو کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا۔ جرگے میں نئی نئی رسومات کا اضافہ کرکے جرگے کو انصاف کی فراہمی کی بجائے کمائی کے زریعے میں تبدیل کردیا گیا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا جسکی وجہ سے آج وہ جرگہ جسکو ایک زمانے میں انصاف کی فراہمی کا آسان ترین اور تیز ترین زریعہ تصور کیا جاتا تھا وہ لوٹ کھسوٹ،انصاف کی فراہم کی بجائے نا انصافی اور صلح کی بجائے لڑائی کا زریعہ تصور کیا جاتا ہے ۔

آج بھی کئی جرگے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن میں انصاف کا بول بالا ہوتا ہے لیکن جرگے کو اتنا بدنام کیا گیا کہ انصاف کی خاطر ہونے والے جرگوں پر بھی کسی کو اعتماد نہیں ہوتا ۔لالچی ثالثین اور سول انتظامیہ کے ٹاوٹ نما نام نہاد ملکان کے ہاتھوں مسلسل کئی سالوں تک جرگہ نظام کی یرغمالی کی وجہ سے جرگے میں ایسی رسومات کو شامل کر دیا گیا جو کہ قبائلی جرگہ کا حصہ نہ تھیں ۔ان سرکاری ملکان نے سول انتظامیہ کے ساتھ ملکر اپنے چند روپے کی لالچ کی خاطر جرگے کے اس بہترین نظام کو خراب کر دیا جو یہاں کے رسم وراج کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے لیے انصاف کا ایک سستا اور تیز ترین زریعہ سمجھا جاتا تھا ۔

جہاں لالچ کی آمد ہوتی ہے وہاں سے انصاف چلاجات ہے اور یوں جرگہ نظام کے ساتھ بھی یہی ہوا۔نام نہاد ملکان نے جرگہ نظام میں لالچ کو بلا کر یہاں سے انصاف کا جنازہ ہی نکال دیا ۔خالوت، مزدوری اور نہ جانے کن کن ناموں کے زریعے جرگے کو کمائی کا ایک زریعہ بنادیا اور اپنی چند روپے کی لالچ کے خاطر قبائلی جرگےمیں ایسی رسومات کو شامل کر دیں کہ انصاف کا یہ آسان ترین زریعہ نا انصافیوں کے ساتھ ساتھ لالچ اور پیسہ کمانے کا زریعہ بن گیا ۔ہر معاشرہ میں لالچی افراد کی کمی نہیں ہوتی اسی طرح قبائلی اور بالخصوص جنوبی وزیرستان میں موجود وہ لوگ جنکی کمائی کا کوئی زریعہ نہیں تھا انھوں نے روایتی پگڑیاں خرید کر خود کو ثالثان کہلانے لگے ان لالچی افراد جن میں زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے نے جرگے کا رہا سہا ڈھانچہ بھی بگاڑ دیا ۔ آہستہ آہستہ ان لوگوں نے جرگے میں شامل ہونے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جو لوگ اللہ کی رضا اور فریقین کے انصاف پر مبنی صلح کی نیت سے اکثر جرگوں کا حصہ ہوتے تھے۔

ہمارے روایتی جرگے کا یہ ایک اصول تھا کہ جن فریقین کے درمیان تنازعہ ہوتا تھا وہ دونوں فریقین تب تک ثالثان کا کردار ادا کرنے والے افراد کے لیئے باری باری  قیام وطعام کا بدوبست کرتے تھے جب تک وہ فیصلہ نہ سناتے  اور خالات اس وقت دیاجاتا تھا جب ثالثین فیصلہ سنادیتے وہ بھی فریقین اپنی استطاعت کے مطابق جتنا خالوت دیتے ثالثین اسکو بخوشی قبول کر لیتے ۔جن فیصلوں میں ثالثان کو یہ ڈر ہوتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فریقین دوران جرگہ کوئی غلط قدم اٹھائیں یا پھر فیصلہ سناتے وقت فیصلہ ماننے سے انکار کریں تو وہ فریقین سے جرگہ شروع کرنے سے پہلے ضمانت لیتے جسکو مقامی زبان میں شوینائی یا برآمتا کہا جاتا تھاضمانت کے طور پر بندوق جمع کرتے تھے اور جرگہ ختم ہونے کے بعد جب فیصلہ ہوجاتا تو یہ ضمانت متعلقہ افراد کو واپس کر دی جاتی تھی۔ جرگے میں شامل افراد ہر ممکن کوشش کرتے کہ تنازعہ کافیصلہ انصاف پر کرالیتے کیونکہ اگر ثالثین جرگہ ناانصافی پر کرتے تو علاقے میں ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی اور لوگ انکو برے الفاظوں میں یاد کرتے اور انکی ناانصافیوں کی مثالیں ہرجرگے میں دی جاتیں تھیں جسکی  وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں یہ بات زبان عام ہوجاتی ۔

اسکے علاوہ اگر  ثالثین کو دو فریقین کے درمیان جرگے کرنے کے زریعے صلح کرانے میں ناکامی کا سامنا ہوجاتا تو یہ بھی ان ثالثین کے لیے بڑی عیب کی بات ہوتی اور خدا ناخواستہ اگر اس تنازعہ  کے باعث فریقین کے درمیان کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجاتا تو معاشرے میں اسکی ذمہ داری بھی جرگے میں شامل ثالثان پر ڈال دی جاتی اور انکو اس ناخوشگوار واقعے کا قصور وار ٹھہراتے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت انصاف پسند اور چیدہ چیدہ لوگ اس عمل سے وابستہ تھے اسکا مقصد صرف اللہ کی رضا اور علاقے میں اپنی بہترین ساکھ کو قائم رکھنا مقصود ہوتا تھا باقی اسکو کسی قسم کا لالچ نہیں ہوتا تھا کیونکہ دوران جرگہ انکے مختلف نخرے برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بھی لوگ انکو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور لوگ انکی باتوں پر اعتماد کیا کرتے تھے ۔

ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں سے ہمارا وزیرستان میں زمین کے ایک ٹکڑے پر تنازعہ چلا آرہا ہے پچاس لاکھ سے زائد خرچہ ہونے کے بعد اب تک تنازعہ کا حل تو دور کی بات اس تنازعہ کے فیصلے کے لیے ایک قدم تک بھی نہیں اٹھایا گیا دریافت کرنے پر انکا مزید کہنا تھا کہ پہلے ضمانت کے نام پر ہم سے ایک ایک لاکھ روپے لیے اسکے بعد پہلے جو ثالثین ضلعی انتظامیہ نے دئیے وہ آجاتے اور مہلت دیکر خالوت لے کر چلے جاتے یہ سلسلہ کئی مہنوں تک جاری رہا اور آخر کار لاکھوں روپے سمیٹنے کے بعد انھوں نے موقف اپنایا کہ یہ فیصلہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے ہم تکیہ لیتے ہیں اور آپ لوگوں کے فیصلے کے لیے مزید تگڑے ثالثان کا انتخاب کرتے ہیں ۔اور یوں اس نے تکیہ لیا اور نئے ثالثان نے ہمارے ساتھ وہی کیا جو انھوں نے کیا آخر میں انکا بھی یہی جواب آیا کہ کہ ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہورپارہا اس لیے شریعت کے رو سے ہی اس تنازعہ کا فیصلہ ممکن ہے ہم تکیہ لیتے ہیں آپ کا فیصلہ فلانے قاضی اور اسکے ساتھ دو وزیر ہونگے وہی کرینگے ۔قاضی جوکہ مدرسے سے قاضی کی ڈگری حاصل کرنے ساتھ ساتھ وہ مقامی روایات کو بھی جانتا ہو وہی قضاوت کرسکتا ہے جو کہ چیدہ چیدہ لوگ ہوتے ہیں ۔قاضی صاحبان کے نخرے اور انکے خرچے برداشت کرنے کے بعد آخر ایک فریق نے اٹھ کر اس پر اعتراض کر دیا اور فیصلہ کرنے سے پہلے ہی انکو معزول کر دیا یوں لاکھوں روپے اور ایک لمبہ عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں سے آغاز کیا تھا۔

 ۔نوجوان کی داستان سننے کے بعد مجھے کئی ایسی باتیں سننے کوملیں جو کہ ہمارے روایتی جرگے کا ماضی میں حصہ نہیں تھیں اور لالچی ثالثین نے اپنے جیب گرم کرنے کے لیے انکو جرگے کا حصہ بنا دیا۔ پہلا تو ضمانت کے طور پر پیسوں کا جمع کرنا کیونکہ ہماری روایات میں یہ بات شامل تھی کہ ضمانت کے طور پر فریقین سے بندوق کو بطور ضمانت لیا جاتا اسکی وجہ یہ تھی کہ بندوق ہمیں ہر چیز سے ذیادہ عزیز اور قیمتی ہوتی تھی بندوق کو ضمانت میں اس لیے جمع کیا جاتا کہ فریق کسی بھی صورت انصاف پر مبنی فیصلہ ماننے سے انکار نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اگر اسکی بندوق ضبط ہوجاتی تو یہ اسکے لیے مرجانے کے مترادف ہوتا اسی لیے بندوق کو بطور ضمانت دینے والا شخص ضمانت دیتے ہی ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار ہوجاتا کہ فیصلہ چاہے میرے حق میں ہو یا میرے خلاف بس اب میں نے فیصلہ ہی کرنا ہے۔ جب کوئی انسان ذہنی طور پر صلح کے لیے تیار ہوجاتا ہے تو وہ صلح آسانی سے ہوسکتی ہے اور بندوق کو بطور ضمانت جمع کرنا ہی فریق کو ذہنی طور پر صلح کرنے کے لیے تیار کرنا ہوتا تھا ۔ اب اس ضمانت کو پیسوں میں تبدیل کرنا صرف ایک روایت کو بنیاد بناکر پیسے بٹورنے کا زریعہ تو ہے مگر مسلے کے حل میں انکا کوئی کردار نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ پیسے آنی جانی چیزہیں اور پیسے انسان کماتا ہی اپنی عزت بچانے کے لیے ہے اسی لیے اگر بطور ضمانت جمع شدہ رقم ضبط بھی ہوجائے تو یہ کسی بھی فریق کے لیے کوئی عیب کی بات نہیں ہو گی۔ البتہ وہ اپنے پیسوں کو بچانے کے لیے مختلف حربے استعمال کریگا ناکہ صلح کے لیے ۔اب چونکہ وہ بندوقوں کا زمانہ نہیں رہا لیکن بندوق کے متبادل اور کوئی ایسی چیز اگر بطور ضمانت جمع کی جائے جس سے فریق ذہنی طور پر فیصلے کے لیے راضی ہوسکیں تو یہ بندوق کا بہترین متبادل ہوگا ناکہ پیسے جمع کرنا۔ ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ جس فیصلے میں ضمانت جمع ہوجاتی ہے وہ فیصلہ آدھا ہوجاتا ہے ۔

دوسری بات جو اس نواجوان کی داستان میں سننے کو ملی وہ تھی تکیہ کیونکہ تکیہ کی ہمارے قبائلی جرگے میں اس سے پہلے کوئی حثیت نہیں تھی اور نہ تکیہ قبائلی جرگوں کا حصہ تھا ۔تکیہ کے معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ تکیہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو ثالثین فیصلہ کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور وہ جرگے کے لیے نئے ثالثان کا انتخاب کرتے ہے تو نئے ثالثان کو خالوت کی شکل میں جتنی بھی رقم ادا کی جائے گی اتنی ہی رقم تکیہ اختیار کرنے والوں کو بھی دی جائے گی۔ ۔خالوت قبائلی جرگوں میں فیصلہ سنانے کے وقت دیاجاتا تھا لیکن اب لالچی ثالثان کی بدولت جب بھی نشست ہوتی ہے تب خالوت دیا جاتا ہے ۔

جرگوں میں یہ بگاڑ پیدا ہونے کے باوجود بھی آج بھی بے شمار ایسے لوگ ہیں جو کہ قبائلی اضلاع میں عدالتوں کے ہوتے ہوئے بھی جرگوں کے زرئعیے  فیصلہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔جرگہ نظام مہنگا ضرور ہوا ہے لیکن آج بھی لوگ اس نظام پر اعتماد کرتے ہیں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جرگے کے اس بگڑے ہوئے نظام کے باوجود بھی کئی ایسے فیصلے جو ہمارے یہاں کی عدالتیں نہ کر سکی اسکا فیصلہ جرگے کے زریعے ممکن ہوا ہے ۔جرگہ نظام میں بے شمار بگاڑ پیدا ہونے کے باوجود حکومت کو اگر آج بھی کوئی ایسا مسلہ درپیش ہوجاتا ہے جسکو حل کرنا چیلنج بن جاتا ہے تو حکومت بھی جرگہ کا سہارہ لیتی ہے ۔

جرگے نظام کو قبائلی اضلاع میں اگر فعال بنایاجائے تو یہاں پر بے شمار تنازعات جو کہ خونی تصادم میں تبدیل ہوجاتے ہیں اس پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ جرگہ نظام کو فعال بنانےکے بعد لالچی اور روایتی ملکان کو اسے دور رکھنے کی صورت میں ہی اس جرگے کے زریعے نہ صرف یہاں کے عوام کے مسائل حل ہونگے بالکہ لالچی اور مخصوص سرکاری ملکان کے کردار کے باعث جرگے کے نظام میں پیدا ہونے والا بگاڑ کا خاتمہ ہوسکے گا اور عوام کا اس پر اعتماد بحال ہو گا ۔جرگے نظام کو موثر بنانے کے لیے جرگے کو طاقتور بنانے کی ضرورت ہوگی اگر کوئی جرگہ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے تو اسکے خلاف کاروائی کرنے کے اختیارات اگر جرگہ کرنے والوں کے پاس ہوں تو انکے دیرپا مثبت نتائج ہوگے اور اگر جرگہ کٹھ پتلی اور بے اختیار ہوگا تو اسکے منفی نتائج ہونگے ۔جرگے کا جدید شکل ڈی آر سی ہے۔ بہترین اوصاف رکھنے والے اور جرگے نظام سے واقف افراد پر مشتمل اگر ڈی آر سی تشکیل دی جائے تو اسکے باعث کئی مسائل پر باآسانی قابو پایا جا سکے گا۔ ڈی آر سی کی تشکیل اور اسکو فعال بنانے کے لیے صوبائی حکومت اور بالخصوص آئی جی پولیس کو اس میں ذاتی دلچسپی لینی ہوگی۔العرض فعال ،بہترین اوصاف امیج رکھنے والے افراد پر مشتمل ڈی آر سی کے قیام میں ہی یہاں کے کئی مسائل اور بالخصوص زمینی تنازعات کا حل مزمر ہے ۔

About the author

Avatar

Hayat Ullah

Leave a Comment