مصنف: لبنٰی آفتاب

دو سالہ ڈگری کی درجہ بندی کو تبدیل کرنے پر آخرکار غور و فکر کیا گیا ، اور ایچ ای سی نے گریجویشن کے بین الاقوامی معیارات کو پورا کرنے کے لئے مثبت قدم بڑھایا۔ اعلی تعلیمی اداروں سمیت سرکاری و نجی یونیورسٹیوں اور کالجوں کو نومبر 2020 میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ایک ہدایت نامہ موصول ہوا جس میں 31 دسمبر 2020 تک دو سالہ ڈگری پروگرام کو ختم کیا جانے کا فیصلہ تحریر کیا گیا۔ ہدایات میں واضح کیا گیا کہ 2021 اور آنے والے سالوں میں کوئی بھی بی ایس سی ، بی اے ، ایم اے ، ایم ایس سی کی ڈگری کا داخلہ حاصل نہیں کر سکے گا۔ اب اس صورتحال میں طلبہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام سسٹم متعارف کرانے کے عصری اطلاع کے متبادل نقطہ نظر کی تاثیر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔
۱۸جنوری 2021 کو مزید تازہ ترین نوٹیفکیشن جاری کرنے پر بی اے اور بی ایس سی پروگرام کو ختم کرنے کے مسئلہ کو بڑھا دیا ہے ۔ یونیورسٹیوں کو ہدایات دی گئی کہ آخری بار ایم اے اور ایم ایس سی میں طالب علموں کو 16 سال کی تعلیم کو مکمل کرنے کے لئے متعلقہ پروگرام میں داخلے جاری کریں۔ مزید یہ کہ اس عمل کی تکمیل کے لئے آخری تاریخ ۳۰ مارچ ہی رکھی گئی ۔
محکمہ ہائیر ایجوکیشن (ایچ ای ڈی) کے تحت خیبر پختونخوا میں سرکاری شعبے میں 120 سے زیادہ کالج تھے ، جہاں بی اے / بی ایس سی پروگرام قابل رسائی تھے۔ مگر بالترتیب 2017 اور 2019 میں ایچ ای سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ طلبہ جنھوں نے دو سال پروگرام کے متعلقہ مضمون میں دسمبر 2018 کے بعد اندراج کروایا ہے یا وہ طلبہ جو ڈگری مقررہ تاریخ میں مکمل کرنے میں ناکام ہوئے ہیں وہ خود بخود درخواست دے کر ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں داخل ہوجائیں گے۔
بی اے / بی ایس سی کی ڈگری کے خاتمے سے طلبا کو یونیورسٹیوں اور اس سے منسلک کالجوں میں بی ایس کےچار سالہ کے ڈگری پروگرام میں رجسٹریشن کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا ہوگا ، جس سے دو سال کی ڈگری والے افراد اہل قرار پائیں گے ۔ایچ اس سی کی یہ اہم ترین پالیسی انھیں بین الاقوامی اور قومی پوسٹ گریجویٹ وظائف کے اہل بننے میں معاون ثابت ہوگی جو ڈگری کے ساتھ تعلیم کے معیارات میں بھی اضافہ ہے۔ تاہم ، بی اے / بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے والوں کو گریجویٹ ڈگری حاصل کرنے کے لیےچار سمسٹرز کی تعلیم مکمل کرنے کے لیے یونیورسٹی کے کسی پروگرام میں داخلہ لینے کی ضرورت ہے۔
ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام بھی بی اے / بی ایس سی پروگرام کی طرح ہے کیونکہ اس ڈگری کا دورانیہ بھی دو سال ہے تاہم بنیادی فرق ر جسٹرڈ طلبہ کو پڑھائے جانے والے مادے میں ہے۔ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں کلیدی تصور یہ ہے کہ عمومی تعلیم کے ساتھ ساتھ وسیع البنیاد تعلیم کا آغاز کیا جائے گا جس میں مختلف شعبوں میں ہنر، صلاحیت اور مہارت دلائی جائے گی جس سے طلبہ مستعفید ہوں گے۔ ڈگری کی بی اے سے ایسوسی ایٹ پروگرام کے کورس میں منتقلی کے دوران معمولی سی تبدیلیاں متوقع ہیں پھر وقت کے ساتھ ساتھ بہتر اور کارآمد اسباب کو روشناس کروایا جائے گا جس کے ڈگری کے ساتھ بہتر روابط ہوں گے۔
ایسوسی ایٹ ڈگری کورس میں تعلیم کا ایک ایسا نظام شامل ہو گا جس میں طالبات کو تجارت، صنعت، ملکی، غیر ملکی اور علاقائی زبانوں، ریاضی، سائنس، تاریخ، اسلامیات، اخلاقیات اور معاشیات جیسے اہم مضامین میں ابتدائی مہارت اور آگاہی فراہم کی جائے گی۔اس سے طالبات کے ہنر، معلومات، عدادوشمار اور صلاحیتوں کی ضمانتوں میں اضافہ ہوگا۔

ایچ ای سی کے ہدایات کے مطابق ایسوسی ایٹ ڈگری حاصل کرنے والے ہر طلبہ کو ہنر کے بنا پر ملازمت حاصل ہوسکےیا منافع بخش اور اہمیت کے حامل چھوٹا سا کاروبار کسی زون میں شروع کر سکے۔ اس میں کمپیوٹر لرننگ ، کام کی جگہ انتظامیہ کی مہارتیں ، فارم کی نگرانی ، زرعی صنعت ، مارکیٹنگ میں معاونت ، سیاہت کی صنعت ، ٹیکنالوجی سے وابستہ ، سیکریٹری یا کاروبار سے وابستہ خدمات شامل ہیں۔
ایچ ای سی کی نوٹیفیکشن2020 میں پہلی بار نہیں جاری کی گئی بلکہ 2017 میں ،پہلی بار تعلیمی یونیورسٹیوں نے بی ایس سی کے خاتمے کے بارے میں مطلع کیا۔ 2019 میں ، دوسری بار ، یاد دہانی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اگر کچھ یونیورسٹیاں اب بھی ڈگری پروگرام پیش کررہی ہیں تو ، یہ کیمپس کی ذمہ داری ہے۔
ایچ ای سی کے ذریعہ تیار کردہ قومی قابلیت کے فریم ورک کے مطابق ، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام 14 سال کی تعلیم کے برابر ہیں۔ اس کو مکمل کرنے سے پہلے ، طلبہ یونیورسٹی کی جانچ کے بعد اپنی پسند کے بیچلر پروگراموں کے پانچویں سمسٹر میں داخلہ لے سکتے ہیں۔
ایچ ای سی کے اس نوٹیفکیشن کے نتیجے میں طلبا سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے مستقبل سے متعلق اپنے تحفظات اور سوالات کا اظہار کر سکیں۔ ایچ ای سی کی ہدایات پر عمل کرنے والی یونیورسٹیوں کو نمائندہ مقرر کرنے کا حکم ، جو نصاب اور ڈگری کی تبدیلی کو بی ایس پروگرام میں منتقلی کے ساتھ کنٹرول اور ہم آہنگی کریں گے اور مطلع شدہ تعلیم کے طرز پر عمل کریں گے۔
تمام مثبت نتائج کے علاوہ ، پالیسی پر روشنی ڈالنے والی تنقید میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں میں 14 سال سے لے کر 16 سال تک کے پروگرام میں منتقلی کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں ہے۔ مختلف شعبوں میں متعلقہ عملہ کی عدم دستیابی ، توسیع کے لئے کم سے کم وسائل اور متعین نصاب کا فقدان ایک نئی ڈگری کے حامی کو متعارف کرانے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
لاکھوں نجی طلباء جن کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ داخلے اور باقاعدگی سے اپنی تعلیم جاری رکھنے سے قاصر ہیں ،اور صرف بی ایس سی / بی اے پروگرام میں سالانہ داخلہ لے سکتے ہیں ۔ طالباء کا سمجھنا ہے کہ ایچ ای سی نے نجی امتحانات میں داخلے کے متبادل کے بارے میں کسی حاتمی فیصلہ لینے کو نظرانداز کیا ہے جس کا سامنا طلبہ کو کرنا پڑ رہا ہے اور ابھی تک وہ یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کے معاملے پر کشمکش میں ہیں۔
مزید یہ کہ ، نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں اور اس سے وابستہ کالجوں کو ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام اور بی ایس آنرز پروگرام 16 سال کے بیک وقت شعبوں کے نصاب کی حتمی شکل ابھی تک نہیں دی گئی۔ اور ماہر تعلیم پینل سے یونیورسٹی محروم ہے۔بی ایس اور ایسوسی ایٹ پروگرام دونوں جاری رکھنے کے لئے دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مستقبل میں امیدہے کی کہ ایچ ای سی ڈگری کے خاتمے کی وجہ سے پیش آنے والی پریشانیوں پر قابو پانے اور پاکستان کے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لئے ایک فارمولہ لے کر آئے گی تاکہ طلباء کو خام مال کی بجائے مہارت اور قابلیت کی پیداوار بنائے جاسکیں۔
یونیورسٹیوں نے فروری اور مارچ میں موسم بہار کے سمسٹر داخلے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اکیڈمیا کی نشستیں کس طرح دہلیز کے اندر ہموار تعلیمی نظام چلانے کے لئے معدوم شدہ ڈگری ہولڈرز اور آنے والے امیدواروں کو شامل کرتی ہیں۔

About the author

Avatar

Lubna Aftab

Leave a Comment