اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر اور حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے کارڈز کی تجدید اور تصدیق کا عمل  آج یعنی  بروز جمعرات سے شروع ہوگیا ہے۔

دستاویزات کی تصدیق و تجدید کے اس عمل کو ڈرائیو نام دیا گیا ہے جو کہ پہلے یکم اپریل سے شروع ہونا تھا لیکن کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے معطل کردیا گیا تھا۔

یو ایچ سی آر کے مطابق یہ عمل اب پندرہ اپریل سے شروع ہوگا جس میں پروف آف رجسٹریشن رکھنے والے افغان مہاجرین اپنی دستاویزات کی تصدیق کرسکتے ہیں جبکہ تصدیق کے بعد انہیں نئے بائیومیٹرک کارڈز کا اجرا کیا جائے گا۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں تقریبا چودہ لاکھ تک افغان مہاجرین کے ساتھ پی او آر کارڈز موجود ہیں اور یہ مشق صرف انہیں کے لئے  ہے جس کے آغاز کے صورت میں انہیں متنبہ کردیا جائے گا۔

موجودہ اعداد و شمار کی توثیق کرنے کے علاوہ تصدیق میں افغان مہاجرین کے ہنر، تعلیم کی سطح، معاشی و معاشی حالات اور آمدنی کے ذرائع کو بھی ریکارڈ کیا جائے گا جس سے پاکستان میں صحت، تعلیم اور روزگار اور افغان مہاجرین کی واپسی اور بحالی کے علاوہ میں صورتحال کی بہتری جیسے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی، پاکستان بھر میں 40 کے قریب ڈرائیو سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔

اس مشق کے دوران نئے بائیومیٹرک کارڈز صرف ان مہاجرین کو فراہم کئے جائیں گے جن کے پاس 31 دسمبر 2015 کو ایکسپائر ہونے والے پی او آر کارڈز موجود ہوں گے۔ نئے کارڈ کے لئے ان کا ذاتی انٹریو، تصاویر اور انگلیوں کے نشانات لئے جائیں گے۔

دستاویزات کی تصدیق اور بائیومیٹرک کارڈ بنانے کا طریقہ کار اور مقصد

یو این ایچ سی آر کے مطابق اس مشق میں ان تمام مہاجرین کو ڈرائیو سنٹر آنا لازمی ہوگا جن کے پاس پی او آر کارڈز موجود ہیں۔ دستاویزات کی تصدیق و تجدید میں مہاجرین کے ان پانچ سال سے کم عمر بچوں کا بھی اندراج ہوگا جو پہلے سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ پی او آر کارڈ کے حامل افراد کے دیگر غیررجسٹرڈ افراد کا بھی ریکارڈ درج کیا جائے گا جن کے پی او آر کارڈز نہیں بنے ہیں۔ خاندان کے ایسے افراد میں صرف بیٹا، بیٹی، شریک حیات اور والدین شامل ہیں اور مشق میں ان کے لئے الگ بائیومیٹرک کارڈ نہیں بنے گا بلکہ ان کا صرف ریکارڈ درج ہوگا۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق دستاویزات کی تصدیق و تجدید تین مراحل میں ہوگی۔

پہلے مرحلے میں پی او آر کارڈ رکھنے والے کو اپنے قریبی مرکز سے ٹیلی فون پر دن اور وقت لینا لازمی ہوگا۔ 15 مارچ سے ان مراکز کے رابطہ نمبرز جاری کئے گئے ہیں جن پر کال کرنے کے بعد ہر ایک کو سنٹر آنے کی تاریخ اور وقت بذریعہ ایس ایم ایس بھیج دیا جائے گا۔

اس ضمن میں یو این ایچ سی آر نے وضاحت جاری کردی ہے کہ یہ مہم افغان سیٹیزن کارڈ(اے سی سی) رکھنے والوں کے لئے نہیں ہے لہذا وہ مرکز آنے یا وقت مانگنے سے گریز کریں۔

دوسرے مرحلے میں پی او آر کارڈ ہولڈر مہاجرین اور ان کے اہل خانہ کے تمام افراد کو اپنے کارڈز سمیت الاٹ شدہ مرکز آنا ہوگا جہاں ان کے ذاتی انٹریوز، تصاویر اور انگوٹھیوں کے نشانات لئے جائیں گے۔

تیسرے مرحلے میں انٹریوز اور چند ہفتوں کی ضروری کاروائی کے بعد مہاجرین کو نئے بائیومیٹرک کارڈز جاری کئے جائیں گے۔ انٹریوز کے چند ہفتوں بعد افغان مہاجرین اپنے پی او آر کارڈ کا نمبر 8400 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نئے کارڈ کا سٹیٹس معلوم کرسکتے ہیں کہ آیا بن کر مرکز پہنچ چکا ہے یا نہیں۔

یو این ایچ سی آر نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ جو پی او آر ہولڈر مہاجرین اس مشق میں حصہ نہیں لیتے تو ان کے کارڈز مشق کے اختتام پر ایکسپائر تصور ہوں گے جس کے بعد وہ لوگ شائد صحت و تعلیم کے سہولیات اور رضاکارانہ واپسی کے لئے یو این ایچ سی آر کے طے شدہ نقد رقم بھی حاصل نہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بھی ان کی تقل حرکت محدود ہوسکتی ہے۔

About the author

Avatar

Voice of KP

Leave a Comment