قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبد الغنی برادرکی قیادت میں طالبان کا ایک وفد امن عمل پر بات چیت کیلئے تہران پہنچا ہے۔ طالبان ترجمان محمد نعیم اور ایران کے وزارت خارجہ نے طالبان کے وفد کے دورے کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دورہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ دورے کے دوران طالبان کے سیاسی نمائندے ایرانی وزیر خارجہ کے علاوہ دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

بیان میں مزید کہا گیاکہ طالبان کے دورہ تہران کا مقصد ایران کی افغان تنازعہ میں فریقوں تک رسائی ہے۔ طالبان ترجمان نے اپنے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ دورہ ایرانی حکومت کے باضابطہ دعوت پر ہو رہا ہے جس کے دوران افغانستان اور خطے میں امن اور سلامتی کے علاوہ ایران میں افغان مہاجرین کی مشکلات سے متعلق بھی گفتگو ہوگی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی ملا عبد الغنی برادرکی قیادت میں طالبان کے وفد نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ دوسری جانب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطر میں بین الافغان مذاکراتی تعطل کا شکار ہو گئے ہیں اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان نادر نادری نے اپنے ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ گزشتہ 9 دنوں سے دونوں فریقوں کے د رمیان مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کیلئے بین الافغانی مذاکرات تین ہفتے کے وقفے کے بعد 5 جنوری کو شروع ہوئے تھے اور دونوں فریق ایجنڈے سے متعلق مشورے کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق طالبان جنگ بندی سے پہلے افغان حکومتی وفد سے ایک نئے نظام پر اتفاق چاہتے ہیں لیکن افغان حکومتی وفد نے پہلے جنگ بندی اور موجودہ نظام میں طالبان کو شمولیت کی دعوت دی ہے جو طالبان نے مسترد کر دی۔

About the author

Avatar

Voice of KP

Leave a Comment