بھارت میں مودی حکومت کی کسان دشمن زرعی اصلاحات کے خلاف کاشتکار دہلی کی سڑکوں پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف مودی سرکاری زراعت کو بھی کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کی تیاری کر چکی ہے۔

نئے زرعی قوانین کے اطلاق کے بعد زراعت کے شعبے پر کارپوریٹ کا کنٹرول ہو جائے گا اور کسان اپنی مرضی سے فصل کی قیمت طے کرنے کا سنہرا خواب کل سرمایہ داروں اور کارپوریٹ کی طے کردہ قیمت پر بیچنے کی مجبوری میں بدل دے گا نئے قانون میں اجناس کے لئے حکومت کی مقرر کردہ کم از کم سپورٹ قیمت کے نئے قوانین میں شامل نہ ہونے سے کسان مزید غربت میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔

 مودی سرکاری زراعت کو بھی کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کی تیاری کر چکی ہے۔یہ شبہ اور بھی مستحکم ہو جاتا ہے جب مذکورہ زرعی بل کی منظوری سے قبل اڈانی گروپ نے بڑے بڑے لاکھوں میٹرک ٹن غلہ اسٹور کرنے کی صلاحیت والے گودام تعمیر کرا لیے تھے۔اور امبانی گروپ نے ریٹل چین فیوچر گروپ کو ٹیک اوور کر لیا تھا۔حالانکہ اڈانی گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے یہ گودام بہت پہلے تعمیر ہوئے تھے۔

اگر نئے زرعی قوانین کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھارتی زراعت کو کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کرنے کی ویسی ہی سازش ہے جسے دیگر عوامی کمپنیوں سمیت ریلوے کو بھی کارپوریٹ کے حوالہ کیا جا رہا ہے۔جبکہ حکومت کسان تحریک کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس کا الزام بھی پاکستان پر تھوپا جا رہا ہے اور اسے سکھوں کی خالصتانی تحریک سے جوڑا جا رہا ہے۔

کیونکہ تحریکوں کو بدنام کرنا اور مخالفین کو وطن دشمن بنانا بی جے پی کا آزمودہ نسخہ ہے۔بھارتی متعصب میڈیا حسب معمول کسان تحریک کے خلاف نہایت بے ہودہ و غیر ذمہ دارانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔اسی حکومتی رویے کے پیش نظر بھارتی سپریم کورٹ کو مجبوراً دخل اندازی کرنا پڑی اور ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر بھارتی سپریم کورٹ ان قوانین پر حکم امتناعی جاری کر دیتی تو بہتر ہوتا۔

دوسری جانب بھارتی بزنس ٹائیکون انیل امبانی اور گوتم اڈانی کے اسرائیل سے روابط کا انکشاف منظر عام پر آیا ہے۔2016ء میں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا تو اس وقت انیل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس نے اسرائیل رافیل کے ساتھ جوائنٹ وینچر کیا تھا۔

دوسری جانب فصل بیچنے کے لئے جس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا بلند و بانگ دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ سٹہ بازی کی ہی دوسری شکل ہے جسے بھارتی حکومت تحفظ فراہم کرکے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کے طور پر دے رہی ہے۔

زرعی شعبے کی اصلاحات کی تباہ کاریاں بھارتی کسان بخوبی دیکھ چکے ہیں جس سے بھارت میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ہر چند کہ حکومت نے 2018ء کے بعد سے کسانوں کی خود سوزی کے الگ سے اعداد و شمار جاری نہیں کئے لیکن قرضوں کی عدم ادائیگی، فصل کی قیمت نہ ملنے،پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ و دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی تعداد میں کسان خود کو ہلاک کر رہے ہیں۔

About the author

Avatar

Webdesk

Leave a Comment