لندن : سال 2020 عالمی سطح پر آفات کا سال رہا۔ ان آفات میں  جنگلات میں بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ، سیلاب ، طوفان اور ٹڈی دل کے حملے  شامل ہیں۔
برطانیہ کے تحقیقاتی ادارے چیریٹی کرسچن ایڈ نے پیر کے روز شائع ہونے والے اپنی تازہ رپورٹ میں  2020ء میں آنے والی تباہ کاریوں پر ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں میں شدت آنے کی وجہ سے اقوام عالم کو یکساں تباہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غریب اور امیر تمام ممالک ہی رواں برس موسمیاتی   تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اقوام عالم کو نہ صرف مالی نقصان اُٹھانا پڑا، بلکہ لاکھوں معصوم جانیں بھی لقمہ اجل بن گئیں۔رپورٹ کے مطابق غریب کی نسبت امیر ممالک زیادہ نقصان میں رہے، کیونکہ امیر ممالک میں عوام مہنگے گھروں میں رہتے ہیں، جنہیں قدرتی آفات سے گزند پہنچنے کی صورت میں بھاری نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ تاہم بعض قدرتی آفات کی وجہ سے غریب ممالک بھی متعدد مسائل کا شکار رہے، یہی وہ ممالک ہیں جہاں قدرتی آفات کے نتیجے میں اموات کی شرح زیادہ رہی۔

سال 2020 کی سب سے بڑی آفت کرونا وائرس کی شکل میں سامنے آئی۔ جس کی وجہ سے نہ صرف لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے بلکہ عالمی تجارت اور رسد رسانی میں شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔ یہ تباہی ابھی تک جاری ہے اور دنییا میں کوئی نہیں جانتا کہ اس کا سلسلہ کب اور کیسے رکے گا۔ رپورٹ کے مطابق گو کہ اس بیماری کی ویکسین تیار کر لی گئی ہے مگر اس کو عالمی سطح تک رسائی دینا اور اس کے استعمال کو یقینی بنانا ایک چلینج سے کم نہیں ہو گا۔

ٹڈی دل حملے بھی ایک بڑا مسئلہ بنے رہے ہیں۔ ماہرین اس آفت کا موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ کوئی تعلق تلاش کر رہے ہیں۔ یہ وباء خاص طور پر غریب ملکوں کے لیے وبال بنی رہی جہاں پہلے ہی معاشی پہیہ کرونا کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے۔

About the author

Avatar

Webdesk

Leave a Comment