ایک امریکی خفیہ ادارے نے بائیڈن انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی دستوں کی واپسی کے دو سے تین سالوں کے دوران طالبان پورے ملک پر ممکنہ طور پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر امریکا اپنے فوجی دستے افغان جنگ کے فریقین کے مابین اقتدار کی شراکت داری کے معاہدے کے بغیر واپس بلاتا ہے تو طالبان کے قبضے کے بعد القاعدہ کو بھی دوبارہ قدم جمانے موقع مل جائے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس خبر پر فی الحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

دریں اثناء امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ 3500 امریکی فوجیوں کی واپسی کے لیے یکم مئی کی ڈیڈلائن کو پورا کریں گے یا  نہیں۔ معائدے کی خلاف ورزی پر طالبان نے امریکہ کو سنگین نتائج کے لیے تیار رہنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں اس بات کا اعلان کیا تھا۔

قبل ازیں طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے رواں سال کے آخر میں انتخابات کرانے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

23 مارچ کو افغان صدر اشرف غنی نے امریکا کا پیش کردہ امن منصوبہ مسترد کر دیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس کے متبادل کے طور پر وہ آئندہ 6 ماہ میں نئے صدارتی انتخابات کی تجوی پیش کریں گے۔

About the author

Avatar

Voice of KP

Leave a Comment