افغان طالبان نے امریکی صدر جوبائیڈن کے اس  بیان پر کہ یکم مئی تک افغانستان سے مکمل انخلاء مشکل ہوگا پراپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ خبرایجسنی کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے امریکا کو دوحا معاہدے کے تحت افغانستان سے انخلا نہ کرنے پر سنگین  نتائج کی دھکمی دے دی۔ ماہرین کے مطابق اگر ایک بار افغان امن عمل متاثر ہوا تو پر سے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ایک لمبا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس دوران افغانستان ایک بار پھر سے تشدد کی نئی لہر میں مبتلا ہو جائے گا۔ طالبان افغان فورسز پر اپنے حملوں میں تیزی لائیں گے اور اس کے نتیجے میں بہت سے بے گناہ لوگ بھی ان پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنیں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق امریکی صدر کے بیان پرردعمل میں کہا کہ امریکا کو دوحا معاہدےکے مطابق افغانستان سےنکلنا  ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو یکم مئی تک افواج کا افغانستان سے مکمل انخلاء کرنا ہوگا، اگر امریکا فوجی انخلا میں ناکام رہا تو نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا۔ دوسری   طرف امریکی قیادت بھی اس معاملے میں ایک صفحے پر نہیں ہے۔ امریکہ کی عسکری قیادت کا ایک حصہ اب بھی افغانستان میں اپنے قیام کو طول دینے کا خواہاں ہے جبکہ دفتر خارجہ سمیت کئی ایک اہم حصے اس طویل اور لاحاصل جنگ سے نجات حاصل کرکے امریکی وسائل کو ملک کے اندر سر اٹھاتے ہوئے مسائل پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے یکم مئی تک افغانستان سے امریکی فوج کا مکمل انخلا مشکل قرار دیا ہے  اور کہا کہ افغانستان سے یکم مئی تک امریکی فوجوں کا مکمل انخلا مشکل ہوگا۔ خیال رہے کہ دوحا معاہدے کے تحت غیرملکی افواج کو مئی 2021 تک افغانستان سے انخلا کرنا ہے۔

About the author

Avatar

Voice of KP

Leave a Comment